The news is by your side.

Advertisement

ٹریکٹر پالیسی زیادہ خطرناک ہے یا کورونا؟

تحریر: شیر بانو معیز

اٹلی میں چوبیس گھنٹے میں ڈیڑھ سو سے زائد ہلاکتیں، امریکا میں کورونا کے کیسز چین سے زیادہ، ایران میں لوگ سڑکوں پر جان دے رہے ہیں اور دنیا دو مراحل میں اس وائرس کو کنٹرول کرنے کی کوشش کررہی ہے۔

پہلی سماجی دوری اور سیلف آئسولیشن اور دوسری لاک ڈاؤن۔

اس وائرس سے شدید متاثر یورپ میں ایک ملک نے منفرد حکمتِ عملی اپنائی ہے، لیکن افراتفری کے اس عالم میں اس کا ذکر نہیں ہورہا۔ بات ہو رہی ہے بیلاروس کی جس کے صدر نے اس وبا سے لڑنے کے لیے ٹریکٹر تھراپی کا نعرہ لگایا، جسے بالکل اسی طرح تشویش کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے جس طرح وزیرِاعظم پاکستان عمران خان کے الفاظ “گھبرانا نہیں” کا لوگوں پر تاثر ہے۔

بیلا روس یورپ کا وہ واحد ملک ہے جہاں کورونا کا کوئی خوف نہیں، زندگی رواں دواں ہے، تعلیمی ادارے کھلے ہیں، فٹبال میچ ہورہے ہیں اور دوسری تمام سرگرمیاں جاری ہیں۔

بیلاروس کے صدر الیگزینڈر نے اعلان کیا تھاکہ جب تک کھیتوں میں ٹریکٹر چلتے رہیں گے، کورونا کا مقابلہ کیا جاسکے گا، لہذا وائرس سے متعلق کم سنیں اور کھیتوں میں بیج بونے پر دھیان دیں۔

صدر کا اصرار ہے کہ افواہیں، خوف اور دہشت وائرس سے زیادہ خطرناک ہے۔ اسی لیے انہوں نے ملک کی خفیہ ایجنسی کو ہدایت کر رکھی ہے کہ کورونا سے متعلق افواہیں پھیلانے والوں کی کڑی نگرانی کی جائے۔

بیلاروس کا شمار دنیا کی 72 ویں بہترین معیشت میں ہوتا ہے۔ صدر الیگزینڈر کے مطابق واقعات ہوتے رہتے ہیں، خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔

انتہا تو یہ ہے کہ نہ صرف اپوزیشن نے صدر کے فیصلے پر اتفاق کیا بلکہ ایک کارکن نے تو یہ بھی کہا کہ پاگل پن کی صورت حال میں خاموش نہیں رہ سکتے۔ کارکن کے نزدیک دنیا بھر میں اس حوالے سے اقدامات مثلآ کرفیو اور لاک ڈاؤن پاگل پن ہیں۔

بیلاروس میں لاک ڈاؤن تو دور کی بات سفری پابندی بھی نہیں لگائی گئی۔ اب اسے خود کشی کہا جائے یا بہادری یہ تو وقت بتائے گا۔ اس وقت وہاں سو کے قریب کورونا کے مریض ہیں، دو کی جان جا چکی ہے، لیکن زندگی معمول پر ہے اور ہر قسم کی اشیا سے بازار بھرے ہوئے ہیں۔ اگر بات کی جائے ماسک اور سینیٹائرز کی تو وہاں اس کی بھی قلت نہیں ہے اور کسی نے کچھ بھی ذخیر نہیں کیا ہے۔

وبا کے عالم میں بیلاروس کا یہ بے خوف انداز اور رویہ اس خوف کو مات دینے کی کوشش کررہا ہے جو وبا سے بھی زیادہ خطرناک اور مہلک ہے۔

بیلاروس کے صدر کی ٹریکٹر پالیسی کا دوسرا نام ہے، “گھبرانا نہیں۔۔۔”

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں