The news is by your side.

ادبی دنیا میں‌ مشہور لِب لی اور المامون کا قصہ

علامہ شبلی نعمانی اور اکبر الہ آبادی کسی دعوت میں اکٹھے ہوئے تو اکبر نے شبلی کو دعوتِ طعام دیتے ہوئے ایک شعر پڑھا۔
بات یہ ہے کہ بھائی شبلی
آتا نہیں مجھے قبلہ قبلی
جواب میں شبلی نے کہا، کیا خوب قافیہ نکالا ہے آپ نے قبلی کے علاوہ شبلی کا اور کوئی قافیہ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس پر اکبر کچھ سوچنے لگے۔ چند لمحوں بعد بولے۔ کیوں نہیں ہو سکتا۔۔۔
شبلی نے کہا، تو فرمائیے۔ اکبر بولے، ‘‘لِب لی’’ ہو سکتا ہے۔ اس پر شبلی نے تعجب کا اظہار کیا اور ان سے کہا، یہ کیا ہے؟
اکبر خاصے موڈ میں تھے۔ بولے سند پیش کروں؟ شبلی نے کہا ضرور، ضرور۔
تب اکبر الہ آبادی نے یہ شعر پڑھا۔
تم بھی اس راہ پر چلے شبلی
عشق نے آبروئے غالبؔ لی

ایک اور ادبی واقعہ ہے کہ اکبر الہ آبادی کی موجودگی میں کوئی صاحب علامہ شبلی سے ملنے آئے اور نانا فرنویس کی تعریفوں کے پُل باندھنے لگے۔

اس مدح سرائی کا سلسلہ تھا کہ ختم ہی نہیں ہو کر دے رہا تھا۔ اکبر سے رہا نہ گیا۔ تنگ آکر بولے، جناب میرا مشورہ ہے کہ آپ نانا فرنویس پر ایک کتاب لکھیں، میں اس پر بڑا عمدہ تبصرہ قلم بند کروں گا۔ وہ اکبر کی طرف متوجہ ہوئے تو اکبر نے کہا، آپ اپنی کتاب کا نام ‘‘النانا’’ رکھیں، میں تبصرے میں لکھوں گا کہ خوبیوں کے اعتبار سے النانا تو ‘‘المامون’’ کا بھی باپ ہے۔ اس پر شبلی بے اختیار ہنس دیے۔ یہ علامہ کی مشہور تصنیف کا نام ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں